ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ہائی کورٹ بنچ نے سی جے آئی کی تقرری کو چیلنج کرنے والی نظرثانی درخواست کی سماعت سے خود کو کیا علیحدہ

ہائی کورٹ بنچ نے سی جے آئی کی تقرری کو چیلنج کرنے والی نظرثانی درخواست کی سماعت سے خود کو کیا علیحدہ

Fri, 13 Jan 2023 21:08:19    S.O. News Service

نئی دہلی،13؍جنوری (ایس او نیوز؍ایجنسی) چیف جسٹس ستیش چندر شرما اور جسٹس سبرامنیم پرساد پر مشتمل دہلی ہائی کورٹ کی ایک ڈویژن بنچ نے چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس دھننجے یشونت چندرچوڑ کی تقرری کو چیلنج کرنے والی مفاد عاملہ کی عرضی کو منسوخ کرنے کے اپنے حکم کے خلاف نظرثانی کی درخواست کی سماعت سے خود کو علیحدہ کر لیا۔ جسٹس چندرچوڑ ہندوستان کے 50ویں چیف جسٹس (سی جے آئی) ہیں۔ بنچ سنجیو کمار تیواری کی عرضی پر سماعت کر رہی تھی، جسے اب کسی اور بنچ کو بھیج دیا گیا ہے۔

ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں عرضی گزار پر ایک لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا تھا۔ بنچ نے اس وقت یہ بھی کہا تھا کہ یہ عرضی مشہوری حاصل کرنے کے لیے دائر کی گئی ہے۔ بنچ نے اس معاملے سے خود اس لئے علیحدہ کیا ہے کیونکہ مفاد عاملہ کی عرضی کو خارج کرنے کا حکم بھی اسی بنچ نے صادر کیا تھا۔

مرکز کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار کا الزام ہتک آمیز ہے اور تیواری کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہئے۔اسی طرح کی ایک دلیل کو پہلے سپریم کورٹ نے اس بنیاد پر مسترد کر دیا تھا کہ یہ غلط تھا۔ عرضی گزار کے وکیل نے دعویٰ کیا تھا کہ جسٹس چندرچوڑ حلف لینے کے قابل نہیں ہیں کیونکہ ان کا بیٹا ایک معاملے میں بامبے ہائی کورٹ میں پیش ہو رہا تھا اور پھر وہ اسی معاملے میں حکم جاری کر رہے ہیں۔

ہندوستان کے نئے چیف جسٹس کے طور پر جسٹس چندرچوڑ کی حلف برداری کو موخر کرنے کی درخواست کو اس وقت کے چیف جسٹس یو یو للت کی بنچ نے خارج کر دیا تھا۔ جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے 9 نومبر 2022 کو ہندوستان کے 50ویں چیف جسٹس کے طور پر حلف لیا تھا۔


Share: